Sports

اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشوارے Arakeen e Parliment k tax go shware

.....جویریہ صدیق.....
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اراکین اسمبلی کے ٹیکس کی تفصیلات جاری کردیں۔ ڈائریکٹری میں 2014ء میں ارکان کی طرف سے دئیے گئے ٹیکس کی معلومات شامل ہیں۔پڑھنے سے پہلے تو ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ پاکستان کے امیر ترین سیاستدانوں نے اپنی حیثیت اور امارت کے مطابق لاکھوں کروڑوں میں ٹیکس دیا ہوگا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے کچھ ارکان تو ایسے ہیں جن کے پاس کروڑوں روپے کے اثاثے ہیں لیکن ٹیکس کی مد میں کچھ بھی ادا نہیں کیا۔اسمبلی اجلاس ہو یا جلسے ہوں اس دوران سفر نجی جہازوں میں ،قافلوں میں آنے والی قیمتی بلٹ پروف گاڑیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں ،قیمتی ڈیزائنر سوٹ،مہنگے جوتے،اسلحہ برادر نجی حفاظتی دستے کئی ایکٹر پر مبنی فارم ہائوسز،زرعی رقبے لیکن ٹیکس کے خانے میں یا تو صفر یا تو چند ہزار روپے لکھے ہوئے۔

کچھ خواتین رکن اسمبلی بھی اس مقابلے میں مردوں کے ساتھ کھڑی نظر آئیں جو ہر روزڈیزائنر اشیاءاورقیمتی زیورات، لاکھوں روپے مالیت کے دھوپ کے چشمے اور گھڑیاں پہنتی ہیں پر ٹیکس کے خانے میں صفر لکھا ہے،جو چیزیں لندن میلان پیرس میں لانچ ہوتی ہے سب سے پہلے خواتین سیاستدانوں کے پاس آتی ہے لیکن حیرت ہے یا تو ٹیکس دیا نہیں یا پھر اتنا کم کے انسان سوچ میں پڑ جائے۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے 96 ارکان، قومی اسمبلی کے305 اور صوبائی اسمبلیوں کے 639 ارکان نے ٹیکس ریٹرن فائل کیا۔129 ارکان کے نام اس ڈائریکٹری میں شامل نہیں ۔جن میں شرمیلا فاروقی، مراد سعید ،عارف علوی اور مخدوم امین فہیم قابل ذکر ہیں۔ 

95 ارکان ایسے ہیں جنہوں نے صفر انکم ٹیکس ادا کیا۔اب سیاستدانوں کے بہانے کچھ بھی ہوں کہ میرا بزنس تو بچوں کے پاس ہے سب کچھ والدین کا ہے یا خرچہ مجازی خدا اٹھا رہے ہیں لیکن قانون سازوں کے لیے اتنا کم ٹیکس دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ملک اور اس کے قوانین کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔جو ارکان خود ہی مکمل ٹیکس نہیں دیتے وہ کیا خاک قوم کے لیے قانون سازی کیا کریں گے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے26 لاکھ11 ہزار روپے ٹیکس دیا یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جن کا رائیونڈ میں محل ہے، بزنس لندن سے جدہ تک پھیلا ہوا ہے۔بات ہو اگر خادم اعلیٰ شہباز شریف کی جو کرپشن کرنے والوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے55 لاکھ25 ہزار روپے کا ٹیکس دیا۔نظر ڈالیں اگر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ٹیکس پر تو انہوں نے22 لاکھ 86 ہزار روپے ٹیکس دیا ،یہ وہ ہی وزیر خزانہ ہیں جنہوں نے بیٹے کو40لاکھ ڈالر کا قرضہ حسنہ دیا تھا۔نئے پاکستان کے روح رواں عمران خان جو تبدیلی کا نعرہ لگتے ہیں سب سیاستدانوں کو کرپٹ کرپٹ پکارتے ہیں ،انہوں نے 2 لاکھ 18 ہزار روپے ٹیکس دیا حالانکہ موصوف ڈھائی سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں اورنجی جہاز میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں ۔پر جب ٹیکس کی بات آتی ہے تو نئے پاکستان کے لیڈر پرانے پاکستان کے لیڈران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بات ہو اگر پی پی کے خورشید شاہ کی تو انہوں نے صرف ایک لاکھ روپے ٹیکس دیا۔سندھ کے سیاہ و سفید کے مالک وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ بھی ان ساتھ کھڑے نظر آئے اور ٹیکس کی مد میں صرف ایک لاکھ 11 ہزار روپے دئیے۔ ایئر لائن کے مالک شاہد خاقان عباسی نے 22 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔چیئرمین سینیٹ کی بات ہو تو رضا ربانی صاحب نے 6 لاکھ85 ہزار ٹیکس دیا۔مولانا فضل الرحمان نے صرف15 ہزار روپے ٹیکس دیا۔شیریں مزاری11لاکھ 21 ہزار، شاہ محمود قریشی 15 لاکھ33 ہزاراور مشاہد حسین49 ہزار روپے ٹیکس کے ساتھ نظر آئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔ شاہ فرمان،جمشید الدین ،امتیاز قریشی،اکرام اللہ،ملک قاسم،ارباب جہانداد خان،قاسم خٹک،علی امین گنڈا پور،امتیازشاہد ،محمود خان نے بھی ٹیکس کی مدد میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔کل ملا کر 31ارکان نے ٹیکس ادا نہیں کیا۔ جن میں خواتین رکن صوبائی اسمبلی رقیہ حنا،راشدہ رفعت،انیسہ طاہر زیب خیالی،نجمہ شاہین،عظمی خان،نرگس علی اور نسیم حیات شامل ہیں۔ نور سیلم ملک نے ایک کروڑ21 لاکھ روپے ٹیکس دیا ۔جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ پرویز خٹک نے 6 لاکھ 60 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

بات ہو اگر بلوچستان کی تو وزیر اعلیٰ بلوچستان عبد المالک نے صفر ٹیکس ادا کیا۔سردار محمد اسلم نے بھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا،جبکہ میر حمال نے بلوچستان اسمبلی کے تمام ارکان کے مقابلے میں سب سے زیادہ44لاکھ7 ہزارروپے ٹیکس ادا کیا۔

سندھ اسمبلی میں صفر ٹیکس دینے والوں میں سردار کمال خان،میر اللہ بخش تالپور، فیاض علی بٹ ،بیگم شہناز،سائرہ شاہلانی ، خرم شیر زمان، وقارحسین شاہ اور عارف مسیح شامل ہیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے5 لاکھ 37 ہزار ٹیکس دیا۔ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ایک لاکھ26 ہزار روپے ٹیکس دیا۔فیصل سبزواری نے49ہزار دو سو چار روپے ٹیکس دیا۔خواجہ اظہار الحسن نے94 ہزار دو سو35 روپے ٹیکس دیا۔اویس مظفر نے تین لاکھ 72ہزار روپے ٹیکس دیا۔نادر مگسی نے 4 لاکھ73ہزار روپے ٹیکس جمع کروایا۔وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے 15لاکھ89 ہزار روپے ٹیکس دیا۔رئوف صدیقی نے58 ہزار آٹھ سوروپے کا ٹیکس دیا۔

پنجاب اسمبلی کے رکن ارشد وڑائچ نے دو کروڑ 40لاکھ 80 ہزار روپے ٹیکس دیا اور وہ تمام ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیکس دے کر ٹاپ پر ہیں۔ان کے بعد سب سے زیادہ ٹیکس شیخ علائو الدین نے ایک کروڑ31لاکھ ٹیکس دیا۔اسپیکراور قائم مقام گورنر رانا اقبال خان نے ایک لاکھ 83 ہزارروپے ٹیکس دیا۔ راجہ اشفاق سرور نے ایک لاکھ 40ہزارروپے ٹیکس دیا۔شجاع خانزادہ70 ہزار روپے،رانا ثناء اللہ6 لاکھ 82ہزار روپے،پرویز الہٰی13 لاکھ روپے،مونس الہٰی 16 لاکھ روپے،مسز ذکیہ شاہنواز نے ایک لاکھ 66ہزارروپے ٹیکس دیا۔حنا بٹ نے ایک لاکھ 81 ہزار روپے ٹیکس دیا۔اب اگر دیکھیں ان ارکان کو جنہوں نے صفر ٹیکس دیا ۔ ملک احمد سعید خان، سید علی رضا گیلانی، مسعود شفقت، رائے منصب علی خان، میاں عطا محمد مانیکا، احمد شاہ ، سردار خان محمد، پروین اختر نسیم لودھی، کنول نعمان، حسنیہ بیگم،لبنیٰ فیصل،رائو اختر، ملک فیض، چوہدری رفاقت حسین، چوہدری اشرف وڑائچ، میاں طاہر، شیخ اعجاز، رائے عثمان کھرل،رائے حیدر علی خان، سبطین خان، چوہدری طاہر، ملک ظہور انور، ذوالفقارعلی خان،چوہدری لیاقت اور افتخار احمد کے نام شامل ہیں۔

سینٹ کا جائزہ لیں تو کروڑوں روپیہ خرچ کرکے سینٹ میں آنے والوں کے ٹیکس کچھ یوں ہے۔گل بشرا، میر نعمت اللہ ظاہری،محمد عثمان خان کاکڑ،سردار محمد اعظم ،شہباز درانی،ہلال الرحمان،اقبال ظفر جھگڑا،عطاء الرحمان، جان ولیمز،اعظم خان ہوتی،جاوید عباسی،ثمینہ عابد،سراج الحق،ستارہ ایاز،سلیم ضیاء اور نگہت مزرا نے کوئی ٹیکس نہیں دیا۔

سلیم مانڈی والا نے12 لاکھ 34ہزار روپے ٹیکس دیا،سحر کامران نے31ہزار،سسی پلیجو25 ہزار،سعید غنی 78 ہزار،فاروق نائیک 68 لاکھ ،فروغ نسیم ایک کروڑ6 لاکھ ،رحمان ملک 70 ہزار،وزیر اطلاعات پرویز رشید3 لاکھ، اعتزاز احسن ایک کروڑ24 لاکھ،طلحہٰ محمود ایک کروڑ42 لاکھ،فرحت اللہ بابر5 لاکھ86ہزار روپے اورعبد الغفور حیدری30ہزار روپے ۔

اب نظر دوڑائیں قومی اسمبلی پر تو پہلے بات ہوجائے صفر ٹیکس والوں کی گلزار خان،مجاہد علی،عاقب اللہ،محمد اجمل خان،عبد الرحمان خان کانجو،ملک سلطان محمود،سردار کمال خان،ساجد احمد،عیسیٰ نوری،سنجے پروانی ان میں شامل ہیں جن کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ ٹیکس دیں۔حاجی غلام احمد بلور نے 17ہزار روپے ٹیکس دیا۔عمر ایوب34 لاکھ، کیپٹن صفدر 39 ہزار،اسد عمر4 لاکھ 89ہزار،وزیر داخلہ چوہدری نثار6 لاکھ ،عوامی مسلم لگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے 3 لاکھ ،شیخ آفتاب 5 لاکھ،سائرہ افضل تاڑر 87 ہزار،دانیال عزیر4 لاکھ 68 ہزار، طلال چوہدری 47ہزار، احسن اقبال ایک لاکھ 30 ہزار،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق تین لاکھ،سعد رفیق 20 لاکھ،شفقت محمود 72 ہزارروپے،فریال تالپور48 لاکھ،نوید قمر40ہزار روپے،فہمیدہ مرزا59 ہزار روپے،شازیہ مری60ہزار روپے،ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈرفاروق ستار89 ہزار،سید علی رضا عابدی 4 لاکھ 93 ہزار،محمود خان اچکزئی 15 ہزار، نفیسہ خٹک 54 ہزار،عائشہ گلالئی 31 ہزار ،زیب جعفر31ہزار،طاہرہ اورنگزیب 15 ہزار،مائزہ حمید54 ہزار،کشور زہرہ چار لاکھ90 ہزار، نفیسہ شاہ نے تین لاکھ،ماروی میمن 43 ہزار،ثمن جعفری 14 ہزار اور منزہ حسن نے ایک لاکھ 12 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

یہ صورتحال بہت افسوس ناک ہے کے عوام کے نمائندے ہی ٹیکس نہیں دے رہے تو یہ ملک کیا خاک ترقی کرے گا۔قانون سازوں کو قانون کی پاسداری بھی کرنی چاہیے۔ملک کی ہر چیز پر قادر افراد کے دل اتنے ہی چھوٹے ہیں جتنا ان کے انکم ٹیکس کے خانے میں ہندسہ درج ہے۔ اراکین کو چاہیے اپنے ان ساتھیوں سے کچھ سکھیں جنہوں نے ایک کروڑ سے اوپر کا ٹیکس دیا ہے۔ جس ملک نے انہیں اتنی عزت اور دولت دے رکھی ہے اس کا کچھ تو قرض اتاریں، اس ہی ملک سے کمائے ہوئے سرمائے کا اگر تھوڑا سا حصہ ایمانداری کے ساتھ ٹیکس دیتے ہوئے لوٹا دیا جائے تو ہمیں کبھی ورلڈ بینک اور آیی ایم ایف سے قرضے نا لینے پڑیں۔ -
Previous
Next Post »

Thank you for your comment! If it contains links, your comment will be moderated. If you're looking for technical support, please see the FAQ's, our blog or contact the original author. ConversionConversion EmoticonEmoticon